اسلام آباد کے سیکٹر جی–11 جوڈیشل کمپلیکس حملے کی تحقیقات میں سی ٹی ڈی اور آئی بی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی کے 4 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جاری تفصیلات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ساجد اللہ عرف شینا، خودکش حملہ آور کا براہ راست ہینڈلر شامل ہے۔ ساجد اللہ نے اعتراف کیا کہ اسے تمام ہدایات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام کے ذریعے ٹی ٹی پی کمانڈر سعید الرحمن عرف داد اللہ نے دی تھیں۔
سی ٹی ڈی کے ذرائع کے مطابق داد اللہ اس وقت افغانستان میں نواگئی سیکٹر کے انٹیلیجنس چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حملہ آور عثمان عرف قاری کا تعلق بھی افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے تھا جسے ساجد اللہ نے محفوظ ٹھکانے پر ٹھہرایا۔ انکشافات میں بتایا گیا کہ خودکش جیکٹ پشاور کے اکھن بابا قبرستان سے حاصل کی گئی۔
جاری تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ٹی ٹی پی کی افغان قیادت نے حملے کے پورے نیٹ ورک کی ہر سطح پر رہنمائی فراہم کی تھی۔
یہ کارروائی کامیاب آپریشنل سیل کے خاتمے اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں افغان سرزمین سے ملنے والی سپورٹ کے گہرے گٹھ جوڑ کی تصدیق کرتی ہے۔ اس ضمن میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔