محکمہ انسداد دہشتگردی (CTD) خیبر پختونخوا نے انسپکٹر جنرل آف پولیس اور ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی تسلسل میں، صوبے کے حساس علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس اور SWAT ٹیمیں مردان کے علاقے کنڈہ پل نزد اکبرخان کلے، بہلولے روڈ، علاقہ تھانہ ساڑو شاہ میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے لیے موجود تھیں۔ اسی دوران، دو موٹر سائیکل سوار غیر معمولی برق رفتاری سے آتے دکھائی دیے۔
پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی ٹیمز کی جانب سے رکنے کا اشارہ کرنے پر موٹر سائیکل سواروں نے پولیس پارٹی پر باارادہ قتل کی جوابی فائرنگ کر دی جس سے پولیس پارٹی بال بال بچ گئی۔ سی ٹی ڈی (SWAT) ٹیم کے جوانوں نے حفاظت کے پیش نظر فوری جوابی کارروائی کی اور دونوں موٹر سائیکل سواروں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ مقابلے کے بعد حملہ آوروں کا جائزہ لیا گیا تو دونوں ہلاک پائے گئے۔ پولیس نے مزید بتایا کہ ان کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ان کی شناخت نعمان عرف مراد عرف غزنوی ولد ولی مراد اور سہیل عرف چرسی ولد زیر نواز کے نام سے ہوئی،جن کا تعلق فتنہ الخوارج کے حماسی گروپ سے ہے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک شدہ دہشتگرد سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث تھے جن میں ہید کانسٹیبل امجد، کانسٹیبل اقرار سید، اور ایک راہگیر طفل احتشام کی شہادت، چوکی بھڑوچ پر دستی بم حملے، اور دیگر قتل و اقدام قتل کے مقدمات شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے ایک کالے رنگ کی موٹر سائیکل 125CC، دو عدد پستول 30 بور مع ایمونیشن، اور ایک ٹچ موبائل سیٹ برآمد کی گئی۔
سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کی ٹارگٹڈ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی تاکہ صوبے میں امن و امان کی فضا قائم کی جا سکے۔