نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور عالمی امن و استحکام کے لیے دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے یہاں منعقدہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے دوسرے اور اختتامی دن اپنے کلیدی خطاب میں کہی۔
پارلیمانی سفارتکاری اور پرامن حل
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے پارلیمانی سفارتکاری کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی خاص طور پر موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت بڑے تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، اور قوموں کے درمیان مکالمہ و رابطے ہی امن، سلامتی اور ترقی کی واحد راہ ہیں۔
محمد اسحاق ڈار نے اعتراف کیا کہ دنیا کو دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، اور پاکستان بھی بیرونی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔
ایران اور ترکی کی حمایت کا عزم
کانفرنس میں موجود دیگر بین الاقوامی وفود کے سربراہان نے بھی اہم خیالات کا اظہار کیا۔ روسی پارلیمانی وفد کے سربراہ اور سینیٹ میں خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین، کونسٹینٹن کوساچیوف نے کہا کہ روس بھی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور موجودہ عالمی حالات میں ایسی کانفرنسوں کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، جس سے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمانی وفد کے سربراہ اور ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد، اور ترکی کے ممبر پارلیمنٹ علی شاہین نے خصوصی طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے میں پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے بلکہ مل کر دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقابلہ کریں گے۔ ان رہنماؤں نے غزہ میں مستقل امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت
کانفرنس کے دیگر شرکاء نے اتفاق رائے سے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اکیلے عالمی چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ عالمی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔ شرکاء نے عالمی تنازعات کے پرامن حل میں پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت کا اعتراف کیا اور پاکستان میں کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو سراہا۔