پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کا تیسرا دور جو ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں منعقد ہو رہا ہے دوسرے روز بھی جاری ہے۔ یہ مذاکرات کونراڈ ہوٹل میں سخت میڈیا کوریج میں ہو رہے ہیں اور ان کا مقصد انسداد دہشت گردی کے وعدوں کی نگرانی اور تصدیق کے لیے ایک حتمی فریم ورک کو طے کرنا ہے۔ دونوں ممالک کے انٹیلی جنس چیف اپنے اپنے وفود کی قیادت کر رہے ہیں۔
پاکستانی وفد کے مطالبات پر ثالثوں کی مکمل تائید
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں رپورٹرز کو بتایا کہ پاکستانی وفد نے اپنے مطالبات ثالثوں کے سامنے جامع شواہد پر مبنی اور منطقی انداز میں پیش کیے ہیں۔ ان مطالبات کا واحد مقصد سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ "ثالثوں نے ہمارے فراہم کردہ شواہد اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ ثالث اب افغان وفد کے ساتھ پاکستان کے مطالبات پر نقطہ بہ نقطہ بات چیت کر رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی سے لاتعلقی کا واضح مطالبہ
ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان پر واضح طور پر زور دیا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے لاتعلقی اختیار کریں اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عناصر کے خلاف ٹھوس اور عملی کارروائی کریں۔
اسلام آباد نے کابل سے ایک واضح فرمان جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں پاکستانی طالبان اور ٹی ٹی پی کے تحت کام کرنے والے گروہوں سے دوری کا واضح عزم ظاہر کیا گیا ہو۔ خبر رساں ادارے دی خراسان ڈائری نے بھی اس ‘شواہد پر مبنی مطالبات کی فہرست’ کی تصدیق کی ہے۔
پیش رفت حوصلہ افزا، عملی ضمانتیں ابھی بھی مشکل
خبر رساں ادارے ڈان نیوز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ذرائع نے اب تک کی پیش رفت کو "حوصلہ افزا” قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ "بعض باقی ماندہ نکات پر کوئی مفاہمت ممکن ہو سکتی ہے”۔
ذرائع نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق نفاذ کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنا اب بھی مشکل ہے۔ ڈان کے مطابق مذاکرات میں ممکنہ طور پر انسداد دہشت گردی کے تعاون اور سرحدی سلامتی کے پروٹوکولز پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے لیکن مسلسل بداعتمادی اور ٹی ٹی پی کے بارے میں کابل کے مبہم مؤقف ایک دیرپا معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ حکام نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر بات چیت کو آج کے بعد بھی توسیع دی جا سکتی ہے