افغان طالبان سے مذاکرات استنبول میں جاری ہیں، غیر مصدقہ بیانات پر کان نہ دھریں: دفتر خارجہ

دفتر خارجہ پاکستان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات استنبول میں جاری ہیں اور عوام کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ بیانات پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔

ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان کا واضح مؤقف دہرایا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی صورت میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے ثالثوں کے حوالے شواہد پر مبنی مطالبات کیے ہیں جن پر ثالث فریقین کے ساتھ نکتہ بہ نکتہ بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان مذاکرات میں ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی 3 نومبر کو استنبول کا دورہ کیا تھا اور مختلف امور پر بات چیت کی تھی۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ پانی پاکستان کے لیے "بقا کا معاملہ” ہے۔

 پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے۔ ترجمان نے غزہ امن منصوبے کو پائیدار امن قائم کرنے کی کوشش قرار دیا اور اسرائیلی افواج کے فلسطینی علاقوں سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔

اندرابی نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے دوحہ کانفرنس سے کلیدی خطاب کیا اور مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے۔ صدر نے دوحہ میں کئی عالمی رہنماؤں اور سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔

 دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان کا دورہ کر رہے ہیں اور باکو میں یوم فتح کی 5ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

متعلقہ خبریں

مزید پڑھیں