خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کار میں اضافے اور اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں، انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے سینٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل آلات متعلقہ حکام کے حوالے کیے ہیں۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے خیبر پختونخوا پولیس کے تمام اضلاع اور یونٹس کے لیے تھرمل ٹیکنالوجی سے لیس 147 عدد سکوا (SKUA) دوربینیں اور 363 عدد TWS ہاک دوربینیں اور ویپن ماؤنٹڈ سائٹس حوالہ کیں۔ ان کے ساتھ، 10 عدد انتہائی جدید M249 ہیوی مشین گنیں اور 4 جدید اینٹی ڈرون گنز بھی مختلف اضلاع کو فراہم کی گئی ہیں۔
رات کی نگرانی کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ
یہ نئی تھرمل سائٹس اور دوربینیں پولیس کی رات کے وقت نگرانی اور حملے سے بچاؤ کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ کریں گی۔ یہ آلات دور سے ہی انسانی نقل و حرکت کو بھانپنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور رات کے اندھیرے میں 4 کلومیٹر دور سے کسی بھی گاڑی کو ظاہر کر کے نشانہ بنا سکتے ہیں، جس سے کوئی بھی انجانی نقل و حرکت پولیس کی نظر سے اوجھل نہیں رہ پائے گی۔
اینٹی ڈرون اور ہیوی مشین گنز کی فراہمی
جدید اینٹی ڈرون گنز (EMG-300) شمالی وزیرستان، باجوڑ، اور بنوں کے اضلاع کی پولیس کو دی گئیں، جس سے یہ علاقے دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کا مؤثر سدباب کر سکیں گے۔
10 عدد M249 ہیوی مشین گنز خیبر پختونخوا پولیس کی آپریشن کرنے والی RRF ٹیمز اور ایلیٹ فورس کو فراہم کی گئیں، جس سے دہشت گردوں کے خلاف ان کی کارروائیوں کو مزید تقویت ملے گی۔
اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردوں کے نت نئے حربوں کا مؤثر توڑ کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تھرمل دوربینوں اور سائٹس سے رات کی تاریکی میں دشمن کے حملے سے بچاؤ، ان کی پوزیشنز معلوم ہونے اور درست کارکردگی دکھانے میں نمایاں مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی خصوصی کوششوں سے خیبر پختونخوا پولیس مزید مضبوط ہوئی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تندہی سے کر رہی ہے۔