ادارہ اقوام متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں افغانستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر افیون کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دنیا کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ افیون پیدا کرتے ہیں، تاہم اب ملک میں پلانٹ بیسڈ پوست کی بجائے مصنوعی (سنتھیٹک) منشیات ایک زیادہ منافع بخش ماڈل بن چکی ہے۔
افیون کی کاشت کے اعداد و شمار
ادارہ اقوام متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں 10,200 ہیکٹرز کے رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی۔
گزشتہ چند سالوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو:
- 2023 میں افیون کی کاشت 10,800 ہیکٹر پر کی گئی تھی۔
- 2024 میں افیون کی کاشت میں پچھلے سال کی نسبت 19 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے یہ رقبہ 12,800 ہیکٹر تک پہنچ گیا۔
- 2025 میں کاشت میں پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی اور یہ 10,200 ہیکٹر پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں افیون کی کل پیداوار 296 ٹن رہی اور اس کی قیمت 570 امریکی ڈالر فی کلوگرام رہی ہے۔
موسمیاتی چیلنجز اور اسٹاک کی صورتحال
ادارہ اقوام متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) نے بتایا ہے کہ اس کمی کے باوجود، ملک میں زابل، کنڑ اور تخار جیسے صوبوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ملک بھر میں خشک سالی کے باعث افیون کی فصل بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہے۔
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ سالوں کا افیون اسٹاک اتنا زیادہ ہے کہ یہ 2026 تک کی عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
سنتھیٹک ڈرگز کا بڑھتا ہوا خطرہ
رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو افیون سے سنتھیٹک منشیات کی طرف تبدیلی ہے۔ اقوامِ متحدہ دفتر برائے منشیات اور جرم نے واضح کیا ہے کہ اب پلانٹ بیسڈ پوست کی بجائے سنتھیٹک منشیات منافع بخش ماڈل بن چکی ہیں۔
خاص طور پر مصنوعی منشیات (سنتھیٹک ڈرگز) میں "آئس” (Methamphetamine) کی پیداوار افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جرائم پیشہ گروہ پیداوار اور اسمگلنگ میں آسانی کی وجہ سے آئس کو ترجیح دے رہے ہیں جو عالمی منشیات کی تجارت کے منظر نامے میں ایک نئی اور خطرناک تبدیلی کا اشارہ ہے